27 اپریل 2026 - 14:43
ایران کے ساتھ جنگ اور اسرائیل میں فتح کا وہم اختتام پذیر

صہیونی ریاست کی بنیاد بننے والے یہودی آبادکار اپنے چھوٹی آبادی اور مختصر سے مقبوضہ قلمرو کے باوجود، اپنے حکمرانوں کی تشہیری مہمات، نیز پس منظر میں عرب ممالک کو کئی جنگوں میں ہرانے کی بنیاد پر، ـ حزب اللہ لبنان، حماس اور جہاد اسلامی سے کئی مرتبہ شکست کھانے کے باوجود ـ سمجھ رہے تھے کہ گویا ان کی طفل کُش فوج ایران جیسی عالمی طاقت کو بھی شکست دے سکتی ہے، وہ بھول گئے تھے کہ [۔۔۔] صہیونی آبادکاروں کے پاس مقبوضہ سرزمین چھوڑنے اور الٹی نقل مکانی اختیار کرنے کے سوا کئی راستہ نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی ریاست کی بنیاد بننے والے یہودی آبادکار اپنے چھوٹی آبادی اور مختصر سے مقبوضہ قلمرو کے باوجود، اپنے حکمرانوں کی تشہیری مہمات، نیز پس منظر میں عرب ممالک کو کئی جنگوں میں ہرانے کی بنیاد پر، ـ حزب اللہ لبنان، حماس اور جہاد اسلامی سے کئی مرتبہ شکست کھانے کے باوجود ـ سمجھ رہے تھے کہ گویا ان کی طفل کُش فوج ایران جیسی عالمی طاقت کو بھی شکست دے سکتی ہے، وہ بھول گئے تھے کہ چند ہی مہینے قبل نیتن یاہو نے ایران کے خلاف "قیامت کی جنگ" کا اعلان کیا اور صرف 8 دن بعد جنگ بندی کی بھیک مانگنے لگا؛ اس بار نیتن یاہو ٹرمپ کی بچہ خواری کی ویڈیو کے زور سے، امریکہ کو بھی میدان میں لایا اور دونوں نے مل کر شکست کھائی چنانچہ اب صہیونیوں کی اندرونی رائے شماریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادکار صہیونی معاشرہ، حالیہ جنگ میں، شدید قسم کے دباؤ اور اداسی و مایوسوی کا شکار ہو گیا ہے۔

ایران اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے بارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی رائے اور تاثر اسرائیلی خفیہ اداروں کی چار رائے شماریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیونی معاشرہ وقت گذرنے کے ساتھ، اسرائیلی حکمرانوں اور فوج کی دوسری اعلان شدہ جنگ کے اہداف کے حصول سے مایوس ہو گیا ہے۔

مختلف مسائل کے بارے میں مقبوضہ فلسطین کے رہائشی آبادکاروں کی آراء کا ماضی اور حال:

* ایران کو سنجیدہ نقصان پہنچنے پر یقین:

جنگ سے پہلے 69٪؛ جنگ کے بعد 31٪۔

* ایران کے جوہری کو نقصان پہنچانے پر یقین:

جنگ سے پہلے 62/5٪؛ جنگ کے بعد 30/5٪۔

* جعلی ریاست کی فوجی کامیابیوں سے رضامندی:

جنگ سے پہلے 60٪؛ جنگ کے بعد 37٪۔

* اندرونی طور پر امن کا اچھا احساس:

جنگ سے پہلے 38٪؛ جنگ کے بعد 29٪.

* لبنان (حزب اللہ) کی جانب سے فکرمندی:

جنگ سے پہلے 51٪؛ جنگ کے بعد 84٪۔

** کابینہ پر اعتماد: 30٪

** نیتن یاہو پر اعتماد:32٪

نتیجہ یہ ہے کہ صہیونی معاشرہ "فوجی برتری کے وہم" سے نکل گیا ہے اور شکست، تذبذب اور تشویش کی تلخ حقیقت سے دوچار ہے اور مغربی نیز منصف عرب تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صہیونی آبادکاروں کے پاس مقبوضہ سرزمین چھوڑنے اور الٹی نقل مکانی اختیار کرنے کے سوا کئی راستہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha